ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی ملک پر اب سے 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی ملک پر اب سے 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ اس فیصلے کا مقصد حالیہ دہائیوں کے سب سے بڑے احتجاجات کا سامنا کرنے والی ایران کی حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ”اب سے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ہر ملک کو امریکا کے ساتھ کیے جانے والے کاروبار پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔ یہ حکم حتمی اور قابلِ عمل ہے۔“

تاہم وائٹ ہاؤس نے اس پالیسی پر کوئی قانونی دستاویز جاری نہیں کی اور نہ ہی واضح کیا کہ یہ ٹیرف کس قانونی اختیار کے تحت نافذ کیے جائیں گے۔

ایران کی معیشت پر پچھلے کئی سالوں سے مغربی پابندیوں کے اثرات شدید ہوچکے ہیں۔ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور کرنسی کی قدر میں کمی نے عام عوام کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ موجودہ مظاہرے بھی اقتصادی مشکلات کے سبب بھڑکے ہیں، ان مشکلات کی وجہ ایران کی بین الاقوامی تنہائی بھی ہے۔

ایران کی اہم آمدنی کا ذریعہ تیل کی برآمدات ہیں، جس کا سب سے بڑا خریدار چین ہے، اس کے علاوہ ترکیہ، عراق، متحدہ عرب امارات اور بھارت بھی اہم تجارتی شراکت دار ہیں۔

چین ایران کے کُل تیل کا تقریباً 80 فیصد خریدتا ہے، جس سے ایران کو عالمی مارکیٹ میں تنہائی کے باوجود آمدنی حاصل ہوتی رہی ہے۔

چین، ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور 2024 میں دونوں کے درمیان دو طرفہ تجارتی حجم 13 ارب ڈالر سے زائد تھا۔

تاہم پابندیوں کی وجہ سے یہ تجارت اکثر غیر رسمی طور پر ہوتی ہے۔

چین نے اس سال ایران کی 80 فیصد تیل کی برآمدات خریدیں، جبکہ دیگر ممالک جیسے بھارت نے پابندیوں کے بعد خریداری کم کر دی تھی۔

چین نے ٹرمپ کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی ملک ٹیرف یا تجارتی جنگ سے نہیں جیتے گا اور وہ اپنے مفادات کا دفاع کرے گا۔

ترکیہ، ایران کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے جس کی ایران سے تجارت کا حجم تقریباً 5.7 ارب ڈالر ہے۔ ترکیہ پر پہلے سے 15 فیصد ٹیرف عائد ہے اور حال ہی میں امریکا نے اسٹیل اور ایلومینیم کی درآمد پر ٹیرف دگنا کر دیا ہے۔

پاکستان اور بھارت ایران کی اہم برآمدی منڈی ہیں، جہاں ہر سال تقریباً ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی برآمدات ہوتی ہیں۔

بھارت اور پاکستان پر پہلے سے مختلف مصنوعات پر امریکا کی جانب سے ٹیرف عائد ہے، جس سے نئے ٹیرف سے ان کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔

امریکی پابندیوں اور ٹیرف نے ایران کی برآمدات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ایران کی سالانہ تیل کی برآمدات 2018 کے بعد تقریباً 60 سے 80 فیصد کم ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے حکومت کو اربوں ڈالر کی سالانہ آمدنی سے محروم ہونا پڑا۔

عالمی بینک کے مطابق 2012 میں ایران کی فی کس جی ڈی پی 8 ہزار ڈالر سے زائد تھی جو 2024 تک تقریباً 5 ہزار ڈالر تک گر گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں