لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملکی سیاسی صورتحال، پارٹی پالیسی اور مستقبل کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی۔ کانفرنس میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور اب تحریک باقاعدہ طور پر شروع کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صرف بانی پی ٹی آئی ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے حقیقی معنوں میں تحریک چلائی اور ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی کی بات کی۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف قائم مقدمات بے بنیاد ہیں، ان میں کچھ بھی نہیں، اور دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں کسی پارٹی کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا جیسا پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ فسطائیت کے باوجود پی ٹی آئی کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ ’ہم ہر گلی، کوچے، اور قصبے سے عوام کو جمع کریں گے، ہم سے سوال کیا جا رہا ہے کہ ملک کو کہاں لے کر جانا چاہتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں ملک کو قانون کی راہ پر لے جانا چاہتے ہیں‘۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی خود تحریک کی قیادت کریں گے اور اس جدوجہد کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کہنا کہ ہم کسی کو جواب دہ نہیں سمجھتے، سراسر غلط ہے۔ ’آپ کو عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا، اگر ہم پر سازش ثابت ہو جائے تو مجھے چوک میں لٹکا دیں، لیکن اگر سزا پر بات ہو تو پھر سب کو سزا ملنی چاہیے‘
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے دور میں دہشت گردی پر قابو پایا گیا، امن قائم ہوا اور ملک کی معیشت نے بہتری کی راہ پکڑی۔ موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہ سیاسی کارکنوں کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، لیکن وقت آنے پر ہمارے سیاسی مخالفین خود ہی میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ سیاسی تحریک کے 90 دن کا آغاز گزشتہ رات سے ہو چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ یہ تحریک ”آر یا پار“ ہوگی اور اس کی قیادت خود بانی پی ٹی آئی کریں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی چیئرمین ان قوتوں سے بات کریں گے جن کے پاس اصل اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے کبھی چھپ چھپ کر ملاقاتیں نہیں کیں، نہ کریں گے۔ ہماری تحریک واضح، عوامی اور آئینی دائرے میں ہے۔ ہم فیصلہ سازوں سے شفاف انداز میں بات کریں گے، کیونکہ پاکستان کو مزید اندھیرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نہیں چاہتے اس ملک کے بچوں کا مستقبل غلامی میں ہو، اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچوں کو آزادی، خودمختاری اور عزت کا مستقبل ملے تو اس تحریک کا حصہ بنیں۔‘
علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ 5 اگست کوئی ڈیڈ لائن نہیں بلکہ وہ دن تحریک کے عروج کا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہمارے خلاف درجنوں مقدمات بنائے لیکن انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ’ہم نے ہمیشہ آئینی راستہ اپنایا، سڑکوں پر احتجاج کرنا میرا قانونی اور جمہوری حق ہے جسے کوئی طاقت مجھ سے نہیں چھین سکتی۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ سیاسی و معاشی بحران کا حل صرف اور صرف شفاف انتخابات اور آئینی بالادستی میں ہے، اور اس کیلئے پی ٹی آئی کی تحریک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ اس بار صرف تحریک نہیں بلکہ ایک نظریاتی بیداری کی لہر ہے جو پاکستان بھر میں پھیل چکی ہے۔ ’آنے والے 90 دنوں میں فیصلہ ہو جائے گا کہ عوام کا حق غالب آئے گا یا جبر کا نظام باقی رہے گا۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ اور اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بچھر نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور پارٹی چیئرمین کی رہائی کے لیے تحریک کو تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 8 فروری کے انتخابات ہم کسی کو بھولنے نہیں دیں گے، عوام کے ووٹ کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے صحت کارڈ جیسا انقلابی منصوبہ متعارف کروایا جو پاکستان کے ہر غریب شخص کے دل کے قریب تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی پاکستان کا ہر غریب بانی پی ٹی آئی کے ساتھ دھڑکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین تحریک انصاف کی رہائی کے لیے پوری قوم اور پارٹی متحد ہے۔ سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ لاہور میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کا اکٹھ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اپنے بانی کے لیے ایک آواز ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے لاکھوں ٹن چینی برآمد کر کے اب مہنگے داموں واپس منگوائی، جو سراسر عوام دشمنی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’ہماری تحریک ہر گھر سے نکلے گی، ہم پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، یہ ہمارا قوم سے وعدہ ہے۔‘
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بچھر نے بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ کل جب ہمارے وزیراعلیٰ لاہور آئے تو شہر کی سڑکوں کو یرغمال بنا دیا گیا، جگہ جگہ ناکے لگائے گئے۔ انہوں نے ان اقدامات کو عوامی حقوق پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’جلیانوالہ باغ کے بعد جو سلوک تحریک انصاف کے ساتھ کیا گیا، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔‘
ملک احمد خان بچھر نے وزیراعلیٰ پنجاب کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اتنے بااعتماد ہیں تو بغیر پرچی کے کسی پریس کانفرنس میں سوالات کا جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم نے کے پی میں 30 ارب روپے اشتہارات پر نہیں جھونکے، بلکہ حقیقی ترقی کی ہے۔“