کوئٹہ (اولس نیوز) جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع، بالخصوص رحیم یار خان اور لیہ، سے مبینہ طور پر غیر معیاری اور مضرِ صحت آٹے کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سپلائی جاری ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس پر شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق بعض فلور ملز میں گندم کے ساتھ مبینہ طور پر 40 سے 45 فیصد تک مختلف اجزا شامل کرکے آٹا تیار کیا جا رہا ہے، جس میں سفید مکئی اور چاول کا ٹوٹا شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ آٹا مبینہ طور پر پنجاب کی پیکنگ میں بلوچستان منتقل کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آٹا کوئٹہ کے علاوہ نوشکی، دالبندین، مستونگ، قلات، پنجگور، آواران، لورالائی اور قلعہ سیف اللہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سپلائی کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق کوئٹہ سمیت بعض علاقوں کے تندوروں میں بھی مبینہ طور پر غیر معیاری آٹا استعمال کیے جانے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ غیر معیاری اشیائے خورونوش کے استعمال سے عوام مختلف بیماریوں اور صحت کے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی طبی یا لیبارٹری سطح پر تصدیق ضروری ہے۔
ذرائع نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں آنے والے آٹے کے معیار کی فوری اور مؤثر جانچ پڑتال کی جائے، مختلف اضلاع میں آٹے کے نمونے حاصل کرکے لیبارٹری ٹیسٹ کرائے جائیں اور اگر ملاوٹ یا غیر معیاری اجزا کے استعمال کی تصدیق ہو تو ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
ذرائع کے مطابق آٹے کی سپلائی، پیکنگ، فلور ملز اور تندوروں میں استعمال ہونے والے آٹے کی جانچ سے معاملے کی اصل صورتحال واضح کی جا سکتی ہے۔




