بلوچستان اسمبلی و ایڈمن بلاک کی تاریخی عمارت مسمار کرنے کا فیصلہ عدالت میں چیلنج، سماعت کی استدعا
کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی وایڈمن بلاک کی تاریخی ورثہ عمارت کی ممکنہ مسماری کے خلاف قانونی کارروائی تیز ہو گئی ہے۔ سینئر سیاستدان نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے صوبائی حکومت کے فیصلے کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق رئیسانی نے آئینی درخواست دائر کرتے ہوئے 7 مئی 2026 کے مجوزہ ٹینڈر کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے، جس کے تحت اسمبلی ہال بلڈنگ اور ایڈمن بلاک کو گرانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت اس معاملے کی سماعت کرے اور کیس کو ترجیحی بنیادوں پر 4 مئی 2026 کو مقرر کیا جائے تاکہ ٹینڈر کے اجرا اور عمارت کی ممکنہ مسماری سے قبل قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
درخواست گزار نے عدالت سے اسٹے آرڈر جاری کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔ یہ آئینی درخواست آج بروز جمعرات 30 اپریل 2026 کو بلوچستان ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس نہ صرف ایک اہم تاریخی ورثے کے تحفظ کا معاملہ ہے بلکہ اس کے ذریعے حکومتی اقدامات کی آئینی حیثیت بھی طے کی جائے گی۔




