کوئٹہ(ویب ڈیسک )ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والی لیڈی کانسٹیبل ملک ناز نے جان کا نذرانہ دیکر صوبے کی پہلی خاتون شہید اہلکار کا اعزاز حاصل کر لیا ۔ شہید خاتون اہلکار کے شوہر عبدالغنی ولد خدابخش، لیویز فورس میں سپاہی تھے اور 2011میں اپریل کے مہینے میں ہی خضدار کے علاقے چمروک میں ٹارگٹ کلنگ میں شہید کر دیے گئے تھے۔ شوہر کی شہادت کے بعد ملک ناز کو 17 اپریل 2013 کو شہید کوٹہ کے تحت لیویز فورس میں بھرتی کیا گیا، جہاں انہوں نے پیشہ ورانہ ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے اپنے خاندان کی روایت کو برقرار رکھا۔ اب وہ خود بھی فرض کی راہ میں جان قربان کر کے اسی سلسلے کو آگے بڑھا گئی ہیں۔ مرحومہ اپنے پیچھے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں چھوڑ گئی ہیں، جن میں 18 سالہ سمیر احمد، 16 سالہ شمائلہ بی بی اور 14 سالہ سمایا بی بی شامل ہیں۔
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات شاہد رند نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لیڈی کانسٹیبل ملک ناز نے عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے بہادری اور فرض شناسی کی نئی مثال قائم کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات انسداد دہشت گردی محکمہ (سی ٹی ڈی) کر رہا ہے اور ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور ریاست کی رٹ ہر قیمت پر قائم رکھی جائے گی۔
شاہد رند کے مطابق شہید لیڈی کانسٹیبل ملک ناز کا خاندان بھی پہلے قربانیاں دے چکا ہے۔ ان کے شوہر بھی لیویز فورس میں خدمات انجام دیتے ہوئے ہدفی قتل کا نشانہ بن کر شہید ہو گئے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ شہید اہلکار اپنے پیچھے تین معصوم بچوں کو سوگوار چھوڑ گئی ہیں جبکہ حکومت بلوچستان نے شہداء کے خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔




