کوئٹہ ( اولس نیوز ) سرکاری پستول اور سرکاری گولی سے دو بھائیوں کو قتل کرنا لمحۂ فکریہ ہے۔ قاتل موقع پر گاڑی چھوڑ کر فرار ہوگیا تھا پولیس نے گاڑی کو قبضے میں لے کر قائد آباد پولیس تھانے میں بند کردیا۔قاتل دو بجے قتل کرکے مغرب کے بعد قائد آباد تھانے جا کر پولیس تھانے میں بند گاڑی سے تمام دستاویزات اور ثبوت پولیس کی نگرانی میں ساتھ لے گیا، جبکہ قائد آباد پولیس نے رہنمائی اور سہولت کار کا کردار ادا کیا۔
پولیس تھانے اب قاتلوں کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔
چھوبیس گھنٹے گزرنے کے باوجود قاتل پولیس سب انسپکٹر گرفتار نہیں ہوا بلکہ پولیس اسے تحفظ فراہم کر رہی ہے۔شہداء کے لواحقین نے انسپکٹر جنرل پولیس، سی سی پی او اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری پستول سے قتل کرنے والے سرکاری ملازم کو تحفظ دینے اور قانون کے نام پر بدنما داغ پیدا کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔قائد آباد میں قاتل کو سہولت فراہم کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی صاحب، پولیس میں موجود کالی بھیڑیوں کے خلاف کارروائی کرنا آپ کی ذمہ داری میں شامل ہے۔سرکاری گولی سے جب شہری محفوظ نہیں تو پھر انتظامیہ عوام کو کیسے تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔پولیس وردی، کارڈ، پستول اور گولی عوام کی ملکیت اور تحفظ کے لیے ہوتے ہیں، لیکن بعض بدکردار غنڈے یہ سرکاری سہولیات اپنی ذات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔شہداء کے لواحقین نے کہا ہے کہ سرکاری گولی اور پستول سے دو نوجوانوں کے قاتل کو قانون کے مطابق سزا نہ دی گئی تو نوجوانوں کے قتل کو ریاستی قتل تصور کیا جائے گا۔ کیونکہ قاتل پولیس سب انسپکٹر ہے اور سرکاری پستول و گولی سے نوجوان قتل ہوئے ہیں۔لواحقین نے واضح کیا ہے کہ قاتل اور سہولت کاروں کو فوری گرفتار نہ کرنے کے خلاف کسی بھی قسم کے احتجاج کو اپنا حق تصور کرتے ہیں۔لواحقین نے سرکاری بندوق سے معصوم شہریوں کے سرعام قتل پر انسانی حقوق کی تنظیموں، سیاسی و سماجی اداروں اور سول سوسائٹی سے ظلم کے خلاف مظلوم کا ساتھ دینے کی اپیل کی ہے۔




