بلوچستان میں اینٹی کرپشن کی بڑی کارروائی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) لورالائی میں مبینہ کرپشن بے نقاب

کوئٹہ: اینٹی کرپشن لورالائی سرکل کی کارروائی کے دوران پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ لورالائی میں بڑے پیمانے پر کرپشن کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد باضابطہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق انکوائری نمبر 11/Q/2026 کے تحت تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ متعدد افسران نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرکاری فنڈز میں خردبرد کی۔ اس کیس میں سابق ایکسین (XEN) محمد علی ہزارہ اور سابق ایس ڈی او (SDO) امین اللہ سمیت دیگر اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
مزید اہم انکشافات: سال 2024-25 کے دوران بوگس بنیادوں پر بھاری بلز کلیئر کیے گئےبغیر کام مکمل کیے ایڈوانس ادائیگیاں کی گئیں متعدد ٹیوب ویلز کی تنصیب کے لیے فنڈز جاری ہوئے مگر عملی طور پر تنصیب نہیں کی گئی اینٹی کرپشن حکام کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور دیگر ملوث افراد کی تلاش بھی جاری ہے۔یہ کارروائی بلوچستان اینٹی کرپشن ایکٹ 2011 کے سیکشن 11 اور 13 کے تحت عمل میں لائی جا رہی ہے، جبکہ اس کیس کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں