بلوچستان کے دو اہم شہروں کوئٹہ اور چمن میں پیٹرول کا شدید بحران پیدا ہوگیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو روزمرہ آمدورفت میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ ایرانی پیٹرول پمپس کی بندش کے بعد صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے اور متعدد پاکستانی پیٹرول پمپس پر بھی پیٹرول کی فراہمی معطل یا محدود ہو چکی ہے۔
کوئٹہ میں کئی پیٹرول پمپس بند پڑے ہیں جبکہ بعض مقامات پر پیٹرول انتہائی مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے۔ کوئٹہ کے کچھ پیٹرول پمپ پر پیٹرول 400 روپے فی لیٹر تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں، جس پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی عدم دستیابی نے سفری اور تجارتی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مختلف پیٹرول پمپس کے گیج اور ذخائر کی فوری جانچ کی جائے تاکہ مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی کے خدشات کا خاتمہ ہو سکے۔ عوامی حلقوں کے مطابق بعض پمپس پر پیٹرول موجود ہونے کے باوجود فروخت محدود رکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب چمن شہر میں بھی پیٹرول کی شدید قلت برقرار ہے۔ بیشتر پیٹرول پمپس بند ہیں جبکہ چند کھلے پمپس پر پیٹرول 450 روپے فی لیٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بحران کے باعث ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہو رہا ہے اور روزمرہ زندگی مشکلات سے دوچار ہے۔
عوامی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پیٹرول کی قلت کے دوران ناجائز منافع خوری عروج پر پہنچ چکی ہے، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونے پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہریوں نے حکام سے فوری نوٹس لینے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور پیٹرول کی فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔




